Wednesday, May 17, 2017

طورغر کے پہاڑی گاؤں کی ایک بےنام زبان

  • 21 فروری 2017

صوبہ خیبرپختونخوا کے برف سے ڈھکے کوہستانی سلسلے طورغر اور ضلع مانسہرہ کے سنگم پر ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک ایسا گاؤں آباد ہے جو اب سے کچھ عرصہ پہلے تک آس پاس کے علاقوں سے کٹا ہوا تھا۔
اس جغرافیائی تنہائی نے اس گاؤں کو ایک انفرادیت عطا کی ہے۔ یہاں کے رہنے والے ایک ایسی زبان بولتے ہیں جو دنیا بھر میں اور کہیں نہیں بولی جاتی۔
اس گاؤں کا نام تو ڈنہ ہے، اس زبان کا نام کیا ہے؟ دوسرے لوگوں نے اسے تراوڑہ، منکیالی وغیرہ جیسے نام دے رکھے ہیں، لیکن خود اس کے بولنے والے اسے صرف 'اپنی زبان' کہتے ہیں۔
ماہرِ لسانیات ڈاکٹر عظمیٰ انجم نے اس زبان پر تحقیق کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ دردی سلسلے کی زبان ہے اور اس کا رشتہ کشمیری اور کوہستانی زبانوں سے ہے۔ وہ کہتی ہیں: 'یہ کسی بھی زبان سے 80 فیصد مماثلت نہیں رکھتی۔ اس لیے ہم دعوے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک منفرد زبان ہے، اس کی اپنی صرف و نحو ہے، اپنی صوتیات ہیں اور اپنا لسانی نظام ہے۔'
ڈاکٹر عظمیٰ کی تحقیق کے مطابق اس زبان کے بولنے والوں کی کل تعداد چار سو کے لگ بھگ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر کی زبانوں کے کیٹلاگ ایتھنولاگ میں 7079 زبانیں درج ہیں، لیکن اس میں بھی اس زبان کا اندراج نہیں ہے۔
اتنی چھوٹی زبان، جو دوسری زبانوں میں گھری ہوئی ہے، اس کا مستقبل کیا ہے؟
یہاں کے باسی اور سکول کے استاد محمد پرویز کہتے ہیں: 'آنے والی ایک دو نسلوں کے بعد یہ زبان بالکل ختم ہو جائے گی۔ ہمارے گاؤں میں بہت سارے گھر ایسے ہیں جنھوں نے باہر سے شادیاں کر رکھی ہیں، وہ عورتیں پشتو یا ہندکو بولتی ہیں۔ ان کے بچے بھی اپنی ماں ہی کی زبان بولتے ہیں، اس لیے 'اپنی زبان' کے بولنے والوں کی تعداد ہر سال گھٹتی چلی جا رہی ہے۔'
محمد پرویز نے بتایا کہ خود ان کی دادی، جن کا حال ہی میں 90 برس کی عمر میں انتقال ہوا، باہر کے گاؤں سے آئی ہوئی تھیں اور ان کی اپنی زبان ہندکو تھی۔ وہ 'اپنی زبان' کی کسی حد تک سمجھ تو لیتی تھیں، لیکن ساری زندگی اسے بولنا نہیں سیکھ سکیں۔
پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہونے کی وجہ سے چند سال پہلے تک ڈنہ تک رسائی بہت مشکل تھی اور یہاں کے لوگوں کو سودا سلف لانے کے لیے پہاڑ سے پیدل نیچے اتر کر دس کلومیٹر دور اوگی بازار جانا پڑتا تھا۔ لیکن اب پکی سڑک اس گاؤں کے بالکل قریب تک پہنچ گئی ہے۔ یہ گاؤں والوں کے لیے تو اچھی خبر ہے، لیکن 'اپنی زبان' کے لیے اتنی اچھی خبر نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب گاؤں والوں کا بقیہ علاقوں سے ربط و اختلاط بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے 'اپنی زبان' دوسری زبانوں سے خلط ملط ہو رہی ہے۔
ہم نے ڈنہ میں چلتے پھرتے محسوس کیا کہ بڑے بوڑھوں کی باتیں تو بالکل سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن بچے جو زبان بولتے ہیں، اس میں اردو اور ہندکو کے الفاظ کی بھرمار کی وجہ سے اسے تھوڑی سی کوشش سے سمجھا جا سکتا ہے۔
اس زبان میں کوئی ادب نہیں، نہ ہی کوئی تحریر ملتی ہے۔ محمد پرویز نے کہا کہ 'اپنی زبان' میں دس سے 15 ایسی آوازیں ہیں جو اردو رسم الخط سے ادا نہیں ہو سکتیں۔ انھوں نے 'آدمی' کے متبادل لفظ 'موژ' کی مراد دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جو ژ ہے وہ نہ تو ٹیلی ویژن والا ژ ہے اور نہ ہی ژالہ باری والا۔ اس لیے اس کے لیے نیا حرف وضع کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کی ایئر یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کی ڈین پروفیسر وسیمہ شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایسا کوئی سرکاری محکمہ نہیں ہے جو 'اپنی زبان' جیسی چھوٹی زبانوں کے تحفظ پر کام کر رہا ہو۔ ہمارے پاس سرکاری سطح پر زبانوں کے بولنے والوں کا ریکارڈ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان زبانوں کے بارے میں کسی کو معلومات ہی نہیں ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ جلد ہی ملک میں مردم شماری ہو رہی ہے۔ اگر حکومت مردم شماری کے فارم میں زبان کا خانہ بھی شامل کر لے تو ہمارے پاس بہت کارآمد ڈیٹا اکٹھا ہو جائے گا جس کی بنیاد پر آئندہ پالیسی سازی کی جا سکے گی۔
21 فروری کو دنیا بھر میں مادری زبانوں کا دن منایا جا رہا ہے جس میں بہت سی بڑی زبانوں کے سلسلے میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا بھی خوب بڑھ چڑھ کر کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف زبانوں کے بارے میں پروگرام دکھا رہا ہے۔
لیکن اس تمام تر میلے میں 'اپنی زبان' کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ یہ ایسی زبان جس کا کوئی نام نہیں، کوئی ریکارڈ نہیں، کسی فہرست میں اندراج نہیں، اور جسے چاروں طرف سے دوسری زبانوں کی یلغار کا سامنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ زبان کتنا عرصہ زندہ رہ پائے گی؟
Source: http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39041537

پاکستان کی ’چھوٹی‘ زبانیں

پاکستان کی ’چھوٹی‘ زبانیں
·         8 مئ 2017
یہ بیرونی لنک ہیں جو ایک نئی ونڈو میں کُھلیں گے




·         شیئر
پاکستان میں تقریباً دو دہائیوں کے بعد مردم شماری کا سلسلہ جاری ہے، اور اس میں مختلف زبانیں بولنے والوں کی بھی گنتی ہو رہی ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران صرف نو زبانیں بولنے والوں کا اندراج کیا جائے گا جب کہ درجنوں چھوٹی زبانوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
Description: پاکستان کا نقشہ
بی بی سی کی اس خصوصی پیشکش میں پاکستان کے طول و عرض میں بکھری ہوئی ان نظرانداز شدہ زبانوں میں سے چند کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے جو بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے تو ’چھوٹی‘ زبانیں کہلائی جا سکتی ہیں لیکن ان کے اندر صدیوں پرانی لوک دانش، کہاوتوں، بولیوں، گیتوں اور داستانوں کا خزانہ موجود ہے۔
Description: کشمیر اور گلگت بلتستان
بروشسکی
علاقہ: ہنزہ، نگر، وادی یاسین
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 96,800
ادب و ثقافتبروشسکی ایک تنہا زبان ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا کی کسی اور زبان سے نہیں ملتی۔ اردو رسم الخط میں اس زبان کی کتابیں لکھی جا رہی ہیں اور یو ٹیوب پر گیت اور ڈرامے موجود ہیں، جب کہ ریڈیو پاکستان سے اس کے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ہنزہ کے گاؤں التت میں موسیقی سکھانے کا ادارہ بھی کھل گیا ہے۔
مستقبل: بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بولنے والے سرگرمی سے اپنی زبان پر کاربند ہیں۔ نئی نسل میں اپنی زبان کے  بارے میں تفاخر پایا جاتا ہے۔
شینا
علاقہ: گلگت، سکردو، دیامر، چلاس
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 528,000
ادب و ثقافت: یہ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی زبان ہے۔ اس میں اردو رسم الخط میں نثر و نظم دونوں پر مشتمل کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ اس زبان کے گیت یو ٹیوب پر موجود ہیں اور متعدد گلوکار البم ریلیز کر رہے ہیں، جب کہ ریڈیو پاکستان اور ایک ایف ایم چینل سے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔
مستقبل: بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بولنے والے سرگرمی سے اپنی زبان پر کاربند ہیں۔
بلتی
علاقہ: سکردو، خپلو، نگر، شگر، خارمنگ کے علاوہ لداخ، انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 327,000
زبان کی خصوصیت: یہ پاکستان میں بولی جانے والی چینی تبتی خاندان کی واحد زبان ہے۔
ادب و ثقافت: قدیم زمانے سے ادب کے نمونے موجود ہیں۔ دنیا کی طویل ترین دستان 'کیسر داستان' بلتی زبان میں لکھی گئی ہے۔ عام طور پر اردو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، تاہم اب تبتی رسم الخط بھی رائج کر دیا گیا ہے۔ یوٹیوب پر گیت اور مشاعرے موجود ہیں۔ ریڈیو پاکستان سے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔
مستقبل: بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بولنے والے سرگرمی سے اپنی زبان پر کاربند ہیں۔
وخی
علاقہ: واخان کی پٹی، گوجال، چترال (پاکستان) اور افغانستان، تاجکستان، اور چین کے بعض علاقوں میں بولی جاتی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: نو ہزار
ادب و ثقافت: عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، تاہم تحریریں بہت کم ملتی ہیں۔ اس زبان کا مشہور لوک گیت 'بُل بُلِک' ہے جسے عورتیں چراگاہوں میں گاتی ہیں۔ حال ہی میں اسی نام سے ہنزہ کے شمال میں واقع قصبے گوجال میں میوزک سکول قائم کیا گیا ہے۔
مستقبل: وخی بولنے والے مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ زبان آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔
کنڈل شاہی
علاقہ: یہ زبان پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادیِ نیلم کے ایک گاؤں میں بولی جاتی ہے، جس کا نام بھی کنڈل شاہی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 700
ادب و ثقافت: کوئی تحریر یا رسم الخط موجود نہیں۔
مستقبل: زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ یہ زبان بولتے ہیں جب کہ نوجوان بڑی تیزی سے علاقے کی غالب زبان ہندکو کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ زبان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
Description: خیبر پختونخوا
کھوار
علاقہ: چترال، گلگت بلتستان کا ضلع غذر
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: ڈھائی لاکھ
ادب و ثقافت: بڑی مقدار میں ادب لکھا جا رہا ہے اور نثر و نظم کی کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ ریڈیو پاکستان سے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔
مستقبل: بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بولنے والے سرگرمی سے اپنی زبان پر کاربند ہیں۔
کیلاشا
علاقہ: یہ چترال کے علاقے کیلاش کی بمبوریت، بریڑ اور رنبور وادیوں میں بولی جاتی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: پانچ ہزار
ادب و ثقافت: اس زبان میں تحریری نمونے بہت کم ہیں، البتہ لوک کہانیوں اور گیتوں کی شکل میں ادب موجود ہے۔
مستقبل: بولنے والوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے اور اس کے بولنے والے چترال کی غالب زبان کھوار کے زیرِ اثر آتے جا رہے ہیں۔
تورولی
علاقہ: ضلع سوات میں مدین، بحرین اور کالام کے درمیان دریائے سوات کے دونوں اطراف
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 80 ہزار
ادب و ثقافت: محدود مقدار میں ادب موجود ہے۔ حال میں بچوں کے لیے نصابی کتابیں تشکیل دی گئی ہیں۔
مستقبل: تورولی کا علاقہ چاروں طرف سے پشتو بولنے والوں سے گھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے خطرہ لاحق ہے۔
یدغا
علاقہ: چترال کی وادیِ لوت کوہ میں بولی جاتی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: چھ ہزار
ادب و ثقافت: تحریریں موجود نہیں ہیں، البتہ لوک کہانیاں اور گیت موجود ہیں۔
مستقبل: آس پاس چترال کی غالب زبان کھوار بولی جاتی ہے، جس کے باعث یدغا کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
گوجری
علاقہ: ضلع مانسہرہ، کاغان، ناران، سوات، کشمیر
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: تین لاکھ
ادب و ثقافت: اردو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، تاہم بہت کم کتابیں موجود ہیں۔ یہ زبان بولنے والے زیادہ تر لوگ نچلے طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اس زبان کو توقیر حاصل نہیں۔
مستقبل: بہت سے گوجری بولنے والے ہندکو کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
ڈھاٹکی
علاقہ:تھرپارکر، عمر کوٹ، بدین، میرپورخاص، راجستھان (انڈیا)
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 132,000
زبان کی خصوصیت: تھرپارکر میں دوسری زبانیں بولنے والوں کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ اس کے بولنے والوں کی بڑی تعداد ہندؤوں پر مشتمل ہے۔ ڈھٹکی بولنے والے والوں کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔
ادب و ثقافت: یہ زبان پہلے دیوناگری اور اب سندھی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ سندھی رسم الخط میں محدود پیمانے پر تحریریں اور یوٹیوب پر گیت موجود ہیں۔
مستقبل: لوگوں کی خاصی بڑی تعداد یہ زبان بولتی ہے تاہم پاکستان میں اسے سندھی کے غلبے کا سامنا ہے۔
گجراتی
علاقہ: کراچی، انڈیا
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: کئی لاکھ، بعض گجراتیوں کے مطابق 25 لاکھ، لیکن یہ تعداد مشکوک ہے
ادب و ثقافت: دنیا کی 26ویں بڑی زبان گجراتی برصغیر کے دو بڑے رہنماؤں قائد اعظم محمد علی جناح اور گاندھی کی زبان ہے۔ کراچی میں داؤدی بوہرہ، اسماعیلی خوجہ، میمن، کاٹھیاواڑی اور پارسی یہ زبان بولتے ہیں۔ اس کا اپنا رسم الخط ہے اور کتابیں موجود ہیں۔ ملت نامی ایک اخبار بھی نکلتا تھا لیکن وہ بند ہو چکا ہے
مستقبل: انڈیا میں ساڑھے پانچ کروڑ لوگوں کی زبان ہے لیکن پاکستان میں اس کے زیادہ تر بولنے والے اردو اختیار کر رہے ہیں۔
راجستھانی
علاقہ: بنیادی طور پر انڈیا کی ریاست راجستھان کی زبان ہے، تاہم پاکستانی صوبہ سندھ کے ملحقہ علاقوں، خاص طور پر تھرپارکر میں بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے بعض علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: پاکستان میں اس کے بولنے والے بکھرے ہوئے ہیں جن کی تعداد واضح نہیں۔
ادب و ثقافت: ڈیڑھ ہزار سال پرانی ادبی روایت موجود ہے۔ انڈیا میں راجستھانی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے تاہم پاکستانی علاقوں میں اسے سندھی رسم الخط میں لکھا جاتا ہے۔
مستقبل: انڈیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے لیکن پاکستان میں اقلیتی زبان ہے جسے سندھی اور پنجابی کے غلبے کا سامنا ہے۔
مارواڑی
علاقہ: جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: دو لاکھ 20 ہزار
ادب و ثقافت: انڈیا میں خاصی ترقی یافتہ زبان ہے لیکن پاکستانی علاقوں میں زیادہ تر پسماندہ طبقے ہی یہ زبان بولتے ہیں۔
مستقبل: پاکستان میں اس زبان کو سندھی اور اردو کے غلبے کا سامنا ہے۔
ہزارگی
علاقہ: کوئٹہ، لورا لائی
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: دو لاکھ 20 ہزار
زبان کی خصوصیت: صرف ہزارہ نسل کے لوگ بولتے ہیں
ادب و ثقافت: کوئٹہ میں خاصی ادبی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جن میں مشاعرے بھی شامل ہیں۔ فارسی رسم الخط میں کتابیں لکھی جاتی ہیں
مستقبل: ہزارہ لوگ نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنا علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔ اس سے زبان کو خطرہ لاحق ہے۔
فارسی
علاقہ: کوئٹہ کے ہزارہ قبائل، بلوچستان کے بعض دوسرے علاقے، چترال کی وادیِ شیش کوہ
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: دو ہزار سے تین ہزار
ادب و ثقافت: عظیم ادبی ذخیرہ موجود ہے۔ کوئٹہ میں فارسی میں شاعری کی جاتی ہے۔
مستقبل: پاکستان میں اسے اقلیتی زبان کا درجہ حاصل ہے اور یہ تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔
لسی
علاقہ: بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں بولی جاتی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 11 ہزار
ادب و ثقافت: تحریری نمونے موجود نہیں ہیں۔
مستقبل: بےیار و مددگار، بولنے والے انتہائی پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ شرحِ خواندگی پانچ فیصد سے کم ہے۔ زبان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
Description: پنجاب
پوٹھوہاری
علاقہ: سطح مرتفع پوٹھوہار اور پاکستانی کشمیر کے بعض علاقوں میں بولی جاتی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: 25 لاکھ
ادب و ثقافت: خاصی بڑی زبان ہونے کے باوجود ادب کے خاطر خواہ نمونے موجود نہیں ہیں۔ ریڈیو سے چند پوٹھواری پروگرام ضرور نشر ہوتے ہیں جو خاصے مقبول ہیں۔
مستقبل: بولنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
ہریانوی
علاقہ: بنیادی طور پر انڈیا کی ریاست ہریانہ کی زبان ہے، لیکن پاکستانی پنجاب کے سرحدی اضلاع میں بھی بولی جاتی ہے۔
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: درست تعداد نامعلوم ہے۔
ادب و ثقافت: انڈیا میں اسے دیوناگری رسم الخط میں لکھا جاتا ہے اور وہاں خاصا ادب تخلیق ہوتا ہے اور فلمیں بھی بنتی ہیں، لیکن پاکستان میں اس زبان میں کچھ نہیں لکھا جا رہا ہے۔
مستقبل: پاکستان میں اس زبان کو پنجابی کے غلبے کا سامنا ہے۔
Description: فاٹا
اورمڑی
علاقہ: جنوبی وزیرستان کا قصبہ کانڑی گرام
بولنے والوں کی اندازاً تعداد: چھ ہزار
زبان کی خصوصیت: صرف جنوبی وزیرستان کے ایک قصبے کانڑی گرام میں بولی جاتی تھی اور اب اس کے بولنے والے تمام لوگ بےگھر ہو کر ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور دوسرے علاقوں میں مقیم ہیں۔ یہ زبان برکی قبیلہ بولتا ہے۔ عمران خان کی والدہ شوکت خانم کا تعلق اسی قبیلے سے تھا
ادب و ثقافت: اردو رسم الخط میں تھوڑی بہت شاعری ہوتی ہے۔ اکبر کے دور میں پیر روشان نے اورمڑی میں شاعری کی۔ جدید زمانے میں روزی خان برکی اورمڑی کے اہم شاعر اور محقق ہیں
مستقبل: بولنے والوں کی تعداد تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ زبان یونیسکو کی معدومی کے خطرے سے دوچار زبانوں کی فہرست میں شامل ہے۔
تمام زبانیں
پاکستان میں بولے جانے والی تمام 74 زبانوں کی فہرست (ماخذ: ایتھنولاگ، فورم فار لینگویج انیشی ایٹیو)
آئر، بدیشی، باگڑی، مشرقی بلوچی، مغربی بلوچی، جنوبی بلوچی، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دمیلی، دری، دیہواڑی، ڈھٹکی، ڈوماکی، انگریزی، گاوربتی، گھیرا، گواریا، گاؤرو، گجراتی، گوجری، گرگولا، ہزارگی، شمالی ہندکو، جنوبی ہندکو، جدگالی، جنداورا، جوگی، کبوترا، کچی، کالامی، کلاشہ، کلکوٹی، کامویری، کشمیری، کٹی، کھیترانی، کھوار، انڈس کوہستانی، کچی کولی، پرکاری کولی، ودھیارا کولی، کنڈل شاہی، لہندا، لاسی، لوارکی، مارواڑی، میمنی، اود، اورمڑی، پہاڑی پوٹھواری، پاکستان سائن لینگویج، پلولا، وسطی پشتو، شمالی پشتو، جنوبی پشتو، مغربی پنجابی، سانسی، سرائیکی، ساوی، شینا، شینا کوہستانی، سندھی، سندھی بھیل، توروالی، اردو، اشوجو، واگڑی، وخی، وانیچی، یدغا

 ماخذ
http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39703094