Wednesday, May 17, 2017

'چھوٹی'زبانیں، بڑی لاپروائی

'چھوٹی'زبانیں، بڑی لاپروائی
ظفر سیدبی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ناروے سے تعلق رکھنے والے ماہرِ لسانیات گیورگ مورگن سٹائرن نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کا ضلع چترال لسانی اعتبار سے دنیا کا سب سے زرخیز علاقہ ہے اور ایک چھوٹے سے ضلعے میں کم از کم دس مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔
صرف چترال ہی نہیں، پاکستان کے بیشتر علاقے زبانوں کے لحاظ سے خاصے مالامال ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں چار مختلف لسانی خاندانوں کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہند یورپی (اردو، پنجابی، پشتو وغیرہ)، دراوڑی (براہوی)، چینی تبتی (بلتی)، جب کہ ہنزہ کی بروشسکی ایسی زبان ہے جو دنیا کی کسی اور زبان سے نہیں ملتی، اس لیے لامحالہ اسے بھی ایک الگ خاندان قرار دینا پڑے گا۔ دوسری جانب یہاں عربی (افریقی ایشیائی خاندان) سمجھنے اور بولنے والے بھی لاکھوں میں ہیں۔
پاکستان میں بولی جانے والی 74 میں سے درجنوں زبانوں کے سر پر معدومی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ کم از کم ایک زبان 'بدیشی' ایسی ہے جس کے بولنے والے کسی فرد کا پتہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے اور وہ آس پاس کی دوسری زبانوں کے غلبے تلے دب کر ختم ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ تعداد محض اندازے ہیں جو اکثر و بیشتر مغربی ماہرینِ لسانیات نے برسوں دور دراز پہاڑی علاقوں میں کام کر کے اخذ کیے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کے پاس سرکاری سطح پر اس ضمن میں کوئی اعداد و شمار موجود نہیں۔

ان زبانوں کی شناخت، ترویج اور تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر کیا کوششیں ہو رہی ہیں؟
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ مردم شماری میں پاکستان میں بولے جانے والی 74 میں سے صرف نو کی گنتی ہو رہی ہے، جب کہ بقیہ 65 زبانوں کو 'دیگر' کے کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔
ان زبانوں کے بولنے والوں کا کہنا ہے کہ مردم شماری میں ان زبانوں کی عدم شمولیت دراصل ان 'چھوٹی' زبانیں بولنے والوں کے حصے میں آنے والی محرومیوں کے عمل کا تسلسل ہے۔
اسلام آباد میں واقع ایک غیر سرکاری ادارہ فورم فار لینگویج انیشی ایٹیو (ایف ایل آئی) ان کم بولے جانے والی زبانوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ فخرالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ 19 برس بعد ہونے والی 'حالیہ مردم شماری کے فارم میں صرف نو زبانوں کو لانا اور باقی کو نظرانداز کرنے کا مطلب یہ ہے جیسے اس ملک میں یہ زبانیں وجود ہی نہیں رکھتیں۔ اگر آپ صرف نو زبانوں کو فوقیت دے رہے ہیں اور باقی کو پیچھے رکھتے ہیں تو آپ ان کو مانتے ہی نہیں ہیں۔'
ان زبانوں سے لاپروائی کا سب سے بڑا نقصان گلگت بلتستان کو ہوا ہے کہ اس 73 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کی ایک زبان بھی مردم شماری کے فارم کی زینت بننے سے قاصر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع چترال اور ضلع کوہستان کی بھی کوئی زبان شامل نہیں ہے۔ اسی طرح سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ڈھٹکی، مارواڑی اور دوسری زبانیں بولی جاتی ہیں جن کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں ایک قدیم زبان اورمڑی بولی جاتی ہے۔ تحریکِ انصاف کے عمران خان کی والدہ، جن کے نام پر شوکت خانم ہسپتال قائم کیا گیا ہے، اورمڑی زبان بولنے والے برکی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔
ماہرِ لسانیات روزی خان برکی کہتے ہیں کہ 'اس زبان کے بولنے والوں کی شدید بدقسمتی یہ رہی ہے کہ وہاں امن و امان کی صورتِ حال اور فوجی آپریشنوں کے باعث وہ مکمل طور پر بےگھر ہو کر ملک کے دوسرے حصوں میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس طرح یہ شاید پاکستان کی واحد زبان ہے جس کے پاس اپنی زمین نہیں رہی۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورتِ حال میں اس زبان کا مستقبل سخت خطرے میں ہے۔'
مردم شماری کے فارم میں اس زبان کو بھی جگہ نہیں مل سکی کہ کم از کم یہی پتہ چل جاتا کہ اورمڑی بولنے والے ہیں کتنے اور کہاں کہاں آباد ہیں۔
اس بارے میں محمکۂ شماریات کا کیا موقف ہے جو مردم شماری کا انعقاد کرتا ہے؟ رکن مردم شماری بورڈ حبیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا: 'مردم شماری فارم میں زبانیں بولنے والوں کی آبادی اور ان کی جغرافیائی نمائندگی پر توجہ دی گئی ہے، چنانچہ ہر صوبے سے دو زبانیں شامل کی گئی ہیں: بلوچستان سے بلوچی اور براہوی، سندھ سے سندھی اور اردو، پنجاب سے پنجابی اور سرائیکی، خیبر پختونخوا سے پشتو اور ہندکو، جب کہ کشمیر سے کشمیری شامل کی گئی ہے۔'
حبیب اللہ کو خود بھی احساس ہے کہ اس فارم میں خامیاں ہیں: 'اس فارم میں صفر سے لے کر نو تک صرف دس ہندسے شامل کیے جا سکتے ہیں، اس سلسلے میں مقدمے بھی دائر کیے گئے اور میں خود کئی ججوں کے سامنے پیش ہوا اور ان کو یہی عذر پیش کیا کہ اس فارم کی خامی ہے جس کی وجہ سے ہم مزید زبانیں شامل نہیں کر سکتے، ورنہ ہمیں خود محسوس ہو رہا ہے۔'
لیکن ایف ایل آئی کے فخرالدین کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'یہ کوئی منطق نہیں ہے۔ ہم نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ آپ بقیہ زبانوں کا کوڈ بےشک نہ لکھیں، لیکن دیگر کی آپشن کے بجائے ایک خانہ بنا دیں جس کے اندر مردم شماری کا عملہ ہاتھ سے زبان کا نام لکھ دے۔ تاہم کا ہمیں یہ جواب دیا گیا کہ اب چونکہ لاکھوں فارم پرنٹ ہو چکے ہیں اس لیے ان میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ لیکن بعد میں یہ فارم دوبارہ پرنٹ کیے گئے اور ان میں ہماری تجویز کردہ سفارشات شامل نہیں کی گئیں۔'

آخر حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے؟ فخرالدین کہتے ہیں: 'دراصل حکومت ہر جگہ آسانی چاہتی ہے، یہ مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہو رہی ہے۔ خود یہ کرنے والے نہیں تھے۔ حالانکہ ایک فارم میں ترمیم کرنا اتنا مسئلہ نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہر کام میں شارٹ کٹ چاہتے ہیں۔'
ہمارے خیال سے ایک مسئلہ سیاسی بھی ہے۔ نظرانداز شدہ زبانیں بولنے والے تعداد میں کم اور ملک کے دور دراز علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں اس لیے ان کی سیاسی طاقت اتنی نہیں ہے کہ اقتدار کی اونچی دیواروں کے اندر ان کی شنوائی ہو سکے۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی لحاظ سے طاقتور زبانوں کے نقارخانے میں ان زبانوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔
ماخذ:

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39830537

گلگت بلتستان: قدیم زبانیں اور دائمی محرومی

گلگت بلتستان: قدیم زبانیں اور دائمی محرومی
ظفر سید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکردو
'جب 1947 میں ڈوگروں نے حملہ کیا تو ہم سب لوگ گاؤں چھوڑ کر اپنے ساز و سامان سمیت پیچھے والے پہاڑ پر چڑھ گئے اور ان کے ہاتھ کچھ نہ آ سکا۔'
پھول دار سویٹر، گرم اونی چادر اور کالی واسکٹ میں ملبوس سو سالہ بزرگ حسن ابا نے کہانی سناتے سناتے حقے کا کش لیا تو پھانس لگ گئی اور کئی سیکنڈ تک کھانسنے کے بعد کہیں جا کر سانس بحال ہو سکی۔
'سوائے علی حسین کے، جو افراتفری میں اپنی چادر پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اسے ڈوگرے ساتھ لے گئے۔'
اس پر تمام چوپال میں قہقہہ بلند ہوا اور حسن ابا کے قریب بیٹھے لال سرخ علی حسین، جنھوں نے سفید اونی ٹوپی پر پیلے رنگ کا پھول لگا رکھا تھا، مزید لال سرخ ہو گئے۔
یہ چوپال سکردو سے 46 کلومیٹر دور کرگل روڈ اور مٹیالے دریائے سندھ کے کنارے پر واقع گاؤں سرمِک میں قائم ہے۔ یہاں ہر شام بڑے بوڑھے آ کر جمع ہوتے ہیں اور گردشی حقے کے کھانسی آلود کشوں کے دوران پرانے واقعات، حالاتِ حاضرہ، لطائف اور گپ شپ کا تبادلہ کرتے ہیں اور اس بیچ انوکھی مقامی سوغات پایو، یعنی گھی اور ستّو ملی نمکین چائے کا دور چلتا رہتا ہے۔
ہ لوگ مخصوص صوتیات والی بلتی زبان بولتے ہیں جو اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ پاکستان کی واحد زبان ہے جو چینی تبتی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
ان لوگوں کو گلہ ہے کہ پاکستان بھر میں جاری مردم شماری میں صرف نو زبانیں بولنے والوں کی گنتی ہو رہی ہے جن میں ان کی زبان شامل نہیں ہے۔
صرف بلتی ہی نہیں، گلگت بلتستان کی دوسری زبانوں کو بھی اس مردم شماری میں نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ علاقہ زبانوں کے لحاظ سے خاصا مالامال ہے اور یہاں کی دنیا کی چند بلند ترین چوٹیوں کے دامن میں آباد وادیوں میں متعدد منفرد زبانیں بولی جاتی ہیں۔
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز کی طالبہ سکینہ شینا زبان بولتی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'گلگت بلتستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے، اس لیے کم از کم یہاں کی بڑی زبان شینا کو مردم شماری میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے تھا جو نہیں ہو سکا۔'
انھوں نے زبانوں کے مسئلے کو گلگت بلتستان کو بطور صوبہ آئینی حقوق دینے کے مسئلے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو گلگت بلتستان کو صوبے کی شکل دینی چاہیے، اس کے بعد اس کی زبانوں کو ملکی دھارے میں شامل کیا جائے۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعت مجلس وحدت مسلمین نے اس معاملے پر اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کی حمایت کی تھی تاہم حکمران مسلم لیگ ن نے یہ کہہ کر اس قرارداد پر بحث ہی نہیں ہونے دی کہ یہ وفاقی حکومت کا معاملہ ہے اور اس سے حکومت ہی کو نمٹنے دیا جائے۔
رکنِ اسمبلی حاجی رضوان علی نے گلگت میں اسمبلی کے سبزہ زار پر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: 'ہم چاہتے ہیں کہ اس علاقے کے عوام کی شناخت ان کی ثقافت، تاریخ اور زبانوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر یہاں کی زبانوں کی شناخت ہو جائے تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ گلگت بلتستان میں کس قدر تنوع ہےاور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں کس قدر ہم آہنگی اور اتفاق پایا جاتا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'اگر زبانوں کو شامل کیا جائے تو یہاں کے لوگ سمجھیں گے کہ وہ بھی کوئی حیثیت رکھتے ہیں اور انھیں بھی اس معاشرے میں شمار کیا جا رہا ہے۔'
حاجی رضوان کے مطابق 'زبانوں کی شمولیت سے یہ معلوم ہو جائے گا کس زبان کے بولنے کی کیا شرح ہے، کتنی آبادی ہے اور ان کا علاقے میں کیا کردار ہے۔ یہی ہمارا مطالبہ ہے۔'
ملک کے بعض دوسرے حصوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مردم شماری کے تناظر میں مقامی اور غیر مقامی کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ حاجی رضوان سمجھتے ہیں کہ جب سے ملک کے دوسرے حصوں سے آبادکار یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے ہیں تب سے یہاں مسلکی اور فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور علاقے کو کئی سانحات سے گزرنا پڑا ہے۔
سرمک گاؤں میں برف پوش چوٹیوں کی چھاؤں تلے خوبانی کے برف سے سفید تر شگوفوں میں گھری چوپال میں بیٹھے ہوئے پایو کی چسکیاں لیتے ہوئے حسن ابا اور دوسرے بلتی بزرگوں کی نوک جھونک سن کر ایسا لگتا ہے جیسے وقت کا پہیہ الٹا پھر کر صدیوں پرانے کسی دور میں چلا گیا ہے۔
یہاں صحیح معنوں میں اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے کی قدیم زبانوں کے اندر کس طرح سے ہزاروں برس سے کشیدہ کردہ لوک دانش اور مخصوص ثقافت کا خزانہ محفوظ ہے اور ملکی سطح پر اس ورثے کی شناخت اور ترویج کس قدر ضروری ہے۔
لیکن اس وقت اس ثروت مند ورثے کی جڑ یعنی زبان ہی کو ملکی سطح پر اپنی پہچان تسلیم کروانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
 http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39768510:بشکریہ

Wednesday, February 15, 2012

Dying Languages With Special Focus on Ormuri (South Waziristan) Research paper

Dying Languages With Special Focus on Ormuri (South Waziristan)